16 جون 2026 - 16:51
اسرائیلی تجزیہ کار: ایران اپنے بیشتر اہداف حاصل کرنے کے قریب، "محاذوں کا اتحاد" تل ابیب کے لیے فوری خطرہ

ایک معروف اسرائیلی فوجی تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دانشمندانہ سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے بیشتر مطالبات منوانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے، جبکہ ایران، حزب اللہ اور دیگر اتحادی قوتوں کے ممکنہ مشترکہ محاذ کو اسرائیل کے لیے جوہری پروگرام سے بھی زیادہ فوری خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی ویب سائٹ "زمان اسرائیل" کے فوجی تجزیہ کار امیر بارشالوم نے اپنے تازہ تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے "انتہائی ہوشیار انتظام" اور "امریکہ کی کمزوریوں کے درست ادراک" کے ذریعے خود کو ایسے معاہدے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جو تقریباً اس کی تمام خواہشات پوری کرتا ہے۔

بارشالوم کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر حالیہ حملہ اگرچہ بعض حلقوں کی نظر میں اسرائیل کی "غلط حکمتِ عملی" سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ ایران کے ممکنہ جوابی ردعمل کو روکنے کے لیے تہران کے ساتھ زیادہ لچکدار رویہ اختیار کریں۔ ان کے بقول یہ توقع پہلے ہی موجود تھی کہ کسی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران بھی اسی نوعیت کا جواب دے سکتا ہے، جس سے ایک وسیع جنگ بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا جس پر فوری قابو پانا آسان نہ ہوتا۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے قطر کو ان پیش رفتوں کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ ایک طرف وائٹ ہاؤس سے اہم مراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور دوسری طرف ایسے بحران کو پھیلنے سے روک دیا جس کے اثرات خود قطر تک بھی پہنچ سکتے تھے۔

بارشالوم کے مطابق آبنائے ہرمز کی باہمی کھولنے اور ایران کے ایندھن کی فروخت پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو روزانہ تقریباً نصف ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایرانی تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول صرف ایران اور عمان کے پاس ہوگا، جس سے تہران کو خطے میں مزید اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا ماڈل باب المندب میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر عالمی برادری آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے میں پسپائی اختیار کرتی ہے تو پھر باب المندب میں بھی ایسا ہونے سے روکنے کی کوئی مضبوط وجہ باقی نہیں رہے گی۔

بارشالوم نے لبنان کی صورتحال کو بھی ان تبدیلیوں سے جوڑتے ہوئے اسے تہران کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ سکیورٹی زونز سے انخلا کے حق میں نہیں اور اسرائیلی فوج ان علاقوں میں موجود رہے گی۔

اسرائیلی تجزیہ کار کے مطابق یہ موقف لبنان کے بارے میں تشکیل پانے والے ممکنہ معاہدے کو اسرائیل کی جانب سے قبول نہ کرنے کی علامت ہے، اور اس پالیسی کا حقیقی امتحان اس وقت ہوگا جب شمالی اسرائیل کی جانب پہلا راکٹ یا ڈرون فائر کیا جائے گا۔

بارشالوم کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی حلقوں میں "محاذوں کے اتحاد" کا خوف کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق اس بار خدشہ ایران اور حزب اللہ کی مشترکہ فوجی کارروائی سے متعلق ہے، جسے وہ ایک اہم سیاسی کامیابی بھی قرار دیتے ہیں جو امریکی دباؤ کے نتیجے میں براہِ راست اسرائیل کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ملک کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم اس دعوے کی حقیقی جانچ حالیہ کشیدگی اور میدانِ عمل میں ہونے والے واقعات سے ہوگی۔ ان کے نزدیک لبنان میں اسرائیل کی عملی صلاحیت کا امتحان قلیل مدت میں اسرائیل کے لیے ایران کے جوہری پروگرام سے بھی زیادہ اہم چیلنج ہے۔

تجزیے کے اختتام پر بارشالوم نے کہا کہ اگرچہ ایران کا جوہری خطرہ اسرائیل کے لیے ایک سنجیدہ اور وجودی مسئلہ ہے، لیکن وہ فوری نوعیت کا خطرہ نہیں۔ ان کے بقول "محاذوں کا اتحاد" اس وقت اسرائیل کے لیے زیادہ فوری اور اہم خطرہ بن چکا ہے، کیونکہ اس سے ایران کو غیر معمولی اعتماد اور طاقت حاصل ہوتی ہے اور اسرائیل پر براہِ راست میزائل حملوں کو ایک "مؤثر اور جائز" اقدام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ یہ واضح نہیں کہ ایران کا یہ حمایتی دائرہ صرف حزب اللہ تک محدود رہے گا، بلکہ یہ غزہ، شام اور یمن تک بھی پھیل سکتا ہے۔ بارشالوم کے مطابق مستقبل کے بحرانوں میں، خصوصاً اگر ایران جوہری صلاحیت حاصل کر لیتا ہے، تو تہران کی طاقت اور جرات کے اثرات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha